ہر اک بات پہ مسکراتا ہے جھوٹا
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: نیلم تنویر, Larkanaہر اک بات پہ مسکراتا ہے جھوٹا
کوئی غم تو ہے جو چھپاتا ہے جھوٹا
میں خوش ہوں میں راضی میں اچھا بھلا ہوں
یہ کاہے کے ناٹک دکھاتا ہے جھوٹا
کوئی گھر پہ جیسے تیرا منتظر ہو
بھری بزم یوں چھوڑ جاتا ہے جھوٹا
ہوئے ختم جن سے ترے سب مراسم
کیوں احوال ان کے سناتا ہے جھوٹا
وہ صورت کسی کی بھی صورت نہیں ہے
جو صورت جہاں کو دکھاتا ہے جھوٹا
ذرا سچ بتا وہ کسے کوستا ہے
جو تنہائی میں بڑبڑاتا ہے جھوٹا
گلا گھونٹنے والا باطن کا اپنے
زمانے کو جینا سکھاتا ہے جھوٹا
کہیں آ کے دیپک نکالے نہ آنکھیں
نظر آئنوں سے چراتا ہے جھوٹا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






