ھل گئے کھلے کھلےاوہنے تکیا تے
Poet: Muhammad Nawaz Tabassum By: Muhammad Nawaz Tabassum, taxilaھل گئے کھلے کھلےاوہنے تکیا تے
تیر خنجر ناں چلے اوہنے تکیا تے
میں کلانیں اوھدا اِک شکار ھویا
چھڈے زاہد مصلے اوہنے تکیا تے
چار چو فیرے مارے ھور وی نیناں دے
پھردے جھلے جھلے اوہنے تکیا تے
سوہنے لوک بتیرے ساڈے شہر دے وچ
ھر کوہی اس توں تھلے اوہنے تکیا تے
لوکی اوھدے پیار لئی تُوں تُوں میں کردے
پے جاندے نیں گلے اوہنے تکیا تے
تبسم دَم رَکھدا اے پیار نبھاون دا
کہیا نال دھڑلے اوہنے تکیا تے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






