گزرے کسی پر ناگوار وہ حرکت نہیں ہوئی
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamگزرے کسی پر ناگوار وہ حرکت نہیں ہوئی
میری آداوں کو مجھ سے شکایت نہیں ہوئی
جب تک کسی حَسن سے محبت نہیں ہوئی
ہم کو تو ستم اٹھانے کی عادت نہیں ہوئی
ہم نے ان کے نام پر بجھیے تھے خط پر خط
ان کو ہی جواب دینے کی فرصت نہیں ہوئی
چہرے پر ایک حسن کے ٹھہری رہی جو نظر
اب آنکھوں سے اور کوئی شرارت نہیں ہوئی
جس کو ہرا دیا تھا وہ بھی تو اپنا بھائی تھا
اب ہو کر بھی فتح یاب کوئی مسرت نہیں ہوئی
اب ہر ایک کی زبان پر تو ہمارا ہی نام تھا
اب ہم بدنام جو ہوۓ تو کیا شہرت نہیں ہوئی
اب ظالم کا ساتھ دینے کو آۓ تھے تمام لوگ
اب تو مظلوم پر کسی کی عانیت نہیں ہوئی
اب نشائی لب کے وقت بھی جو یاد آۓ کربلا
محسوس مجھ کو پیاس کی شدت نہیں ہوئی
اوروں کو مارنے کے لیے تو خود کشی نہ کر
اب یہ بذدلی کی موت بھی شہادت نہیں ہوئی
اب تو پلے پیسہ نہ تھا جہیز دنیے کے واسطے
اب تو بیٹی غریب باپ کی رخصت نہیں ہوئی
اب مہانت کے ساتھ ساتھ عبادت بھی کیجیۓ
اگر مہانت نہیں ہوئی تو عبادت بھی نہیں ہوئی
مسعود
لو اب تو میں لے آیا آپ سب کے لیے ایک نیی غزل
سبکو تھا انتظار میرا کیا میری شرکت نہیں ہوئی
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






