بدلتے راشتے
Poet: Ijaz By: Ijaz Ahmed, Faisalabad (Dijkot)لہجے بھی بدل جاتے ہیں
رویے بھی بدل جاتے ہیں
برسوں سے جو چلے تھے پکڑ کر دامن جن
ہائے وہ لوگ بدل جاتے ہیں
راشتوں کی نزاکت کو تو خوب سمجھا اعجاز
نہ جانے کیوں سب نظریں ہی بدل جاتے ہیں
بدلتے موسم،بدلتی ہوائیں تو سنا میں نے
کیا خبر تھی کہ لوگ چہرے بھی بدل جاتے ہیں
کبھی محبت کا نام دے تو کبھی نفرت کا
ہر بار دھوکا دینے کے انداز بھی بدل جاتے ہیں
جب جانا ہی تھا سب نے ایک ہی منزل پر تو
کچھ دیر ساتھ چل کر راستے بھی بدل جاتے ہیں
اب نہ اُمید وفا رکھنا تم کسی سے میرے اپنوں
یہاں تو وفا کرنے کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں
مجھے غیروں نے لوٹا یہاں پیار کا دلاسہ دے کر
غیر تو غیر ،اپنے بھی بدل جاتے ہیں
جن کا ساتھ تھا کنارے پر
جب آئی منجدھار میں کشتی تو ارادے ہی بدل جاتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






