کیتی جدوں وی دعا اَساں خیر تری منگی
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaکیتی جدوں وی دعا اَساں خیر تری منگی
ساڈی ائیوں اے وفا اَساں خیر تری منگی
اَسی بہہ کے مسلعے اُتے یاد تینوں کیتا
نماج کیتی نہ قضا اَساں خیر تری منگی
نام تسبیح دے اُتے اَساں ترا دوہرایاں
چُم چُم سینے لا اَساں خیر تری منگی
میل رب نال کیتا اَسان موسیٰ دے وانگ
کوئے طور اُتے جا اَساں خیر تری منگی
ساڈی فکراں دے چھنے تری سوچ نال بھرے
ہائے ہنجوں اپنے بہا اَساں خیر تری منگی
کِتے جان نہ دِتا ترے پیار دیاں کھِچاں
زور لایا میں بڑا اَساں خیر تری منگی
بھیجے رب نُوں میں خط بہہ کے فجر دے ویلے
نہال گل توں لخاء اَساں خیر تری منگی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






