کیا وجہ جو میں کبھی خود سے چاہا نہ گیا
Poet: AbuAbdul By: Jamshed, Dubaiکیا وجہ جو میں کبھی خود سے چاہا نہ گیا
کیا وجہ جو میں کبھی خود سے سوچا نہ گیا
خوبصورت موسم میں معصوم سی ہمسفر
اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹتی لڑکی سے
مجھ سے کبھی کیوں یہ کہا نہ گیا
کہ تم کتنی خوبصورت ہو
تمہاری آنکھیں ایسی کہ نظر نہ ہٹے
تمھارے بالوں پہ اٹکی عینک بہت مختلف لگے
تمھارے ناخنوں پہ لگی پالش بہت بھلی لگے
تمھارے پاس سے آتی خوشبو پاگل سا کرے
تمہارے قریب بیٹھ کر، پکڑ کر تمہارا ہاتھ
"تم کیوں اور کیسے ہو اتنی پیاری"
بس یہی ایک سوال تم سے پوچھتا جاؤں
مگر!
اپنی سوچوں کو کبھی لفظ نہیں بننے دیتا
اپنے جذبوں کو کسی اور کو نہیں سمجھنے دیتا
ایک حد سے زیادہ کسی کو بھی نہیں بڑھنے دیتا
اپنی آنکھوں سے کسی کو دل کا حال نہیں پڑھنے دیتا
شاید یہی وجہ ہے جو آج تک میں
نہ کبھی خود سے چاہا گیا
نہ کبھی خود سے سوچا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






