کیا خُوشی کیا غمی بھی بھول گیا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکیا خُوشی کیا غمی بھی بھول گیا
اب تو وہ من چلی بھی بھول گیا
اِس قدر خُوب تھا وہ خُوش قامت
دیکھتے شاعری بھی بھول گیا
جی لگاتے لگاتے اُس سے میں
آخرش دل لگی بھی بھول گیا
مدّتوں بے سبب اداس رہے
وجہِ افسردگی بھی بھول گیا
دیکھ کر اُس کی چشم ِپُرنم کو
آستیں کی نمی بھی بھول گیا
سرِبالیں میں دیکھتے ہی اُسے
موت کی جانکنی بھی بھول گیا
بستیوں اب مرا یقین آیا
جب میں آوارگی بھی بھول گیا
اب مری یاد کھینچ لائی ہے؟
جب تمہاری کمی بھی بھول گیا
ناز اٹھاتے میں زندگانی کے
دوستی دشمنی بھی بھول گیا
جانیے کیا سحر کیا اُس نے
اپنی شعلہ زنی بھی بھول گیا
دمِ رخصت لہو نہ رویا اور
مرتے دم تک ہنسی بھی بھول گیا
گاہے گاہے میں طنز کرتے وقت
اُس کی بیچارگی بھی بھول گیا
کوچۂ یار کا کوئی پاگل
ایسا سُدھرا گلی بھی بھول گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






