کیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکیا بچھڑ کر کروں گلہ جاناں
تھا مقدر کا فیصلہ جاناں
کبھی فُرصت سے لو خبر میری
آزمانا بھی صبر کیا جاناں
بسترِ مرگ پر کوئی بیمار
ایڑیاں ہے رگڑ رہا جاناں
فقط اِک لمحۂِ جدائی کا
مدتوں غم مجھے رہا جاناں
تھی وہ مجبور بھی مسیحائی
زخم رنجش نہیں بھرا جاناں
تم جو اک پل جدا نہیں مجھ سے
درمیاں کیوں ہے فاصلہ جاناں
مجھ میں آخر ہے کون جو مجھ سے
ہے نہایت گریزپا جاناں
میری محرومیوں کو سمجھے کون
اور وہ تم سے بھی سوا جاناں
صدمۂِ ہجر پر دلاسا مجھے
قیس نے بھی بہت دیا جاناں
حال دیکھا جو میر و غالب نے
اُن کو صدمہ بہت ہُوا جاناں
زہر تھی حق میں زندگانی بھی
نہ جیا نہ ہی مر سکا جاناں
بِن ترے کتنی بے امانی ہے
کیا یہاں ہے کوئی خدا جاناں؟
کس نے لوح و قلم پہ لکھّا تھا
بے ملے جو ہوئے جدا جاناں
کتنا چیخوں میں کس سے شکوہ کروں؟
چھل گیا ہے مرا گلا جاناں
آسماں تک بس اِک نظر کر کے
دِل تڑپ کر ہی مر گیا جاناں
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






