کہنے کو درد نہیں پیار دیتے ہو
Poet: جانِد کشمیری By: جانِد کشمیری, Kashmirکہنے کو درد نہیں، پیار دیتے ہو
خاموشیوں میں کیسے وار دیتے ہو
مسکراہٹوں کے پردے میں چھپ کر
میرے دل کو ایک غبار دیتے ہو۔
تمہاری باتیں، جیسے کوئی دعا
پر اندر چھپے سوالات کی سزا
تمہیں خبر بھی نہیں، یا شاید ہو
کہ ہر خوشی کے بدلے ملال دیتے ہو۔
چاہا تھا سکون تم سے ملے گا
محبت کا کوئی رنگ کھلے گا
پر یہ خواب بھی ٹوٹا، بکھر گیا
تم تو زخموں کو ہی سنوار دیتے ہو۔
کہنے کو درد نہیں، پر درد سا ہے
تمہاری چاہت میں ایک گرد سا ہے
ہر لفظ، ہر لمحہ ایک بوجھ بنے
تم خواب دیتے ہو، مگر نیند چھین لیتے ہو۔
اب دل تھک گیا، پر زبان خاموش ہے
یہ محبت کا کھیل بھی خود ہی بے ہوش ہے
تمہیں خبر ہے، پر کہتے نہیں کچھ
کہنے کو درد نہیں، پیار دیتے ہو۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






