کچھ نہیں لکھا
Poet: سید بدیع الرحمان By: سید بدیع الرحمان, Skarduدل کا سوال تھا تو بتایا کچھ نہیں لکھا
ہم نے جو حال پوچھا، سنایا کچھ نہیں لکھا
آنکھوں کی روشنی میں وہ جذبہ نہ مل سکا
خوابوں کے سلسلے میں سجا کچھ نہیں لکھ
خاموش لب تھے اس کے، زباں بھی سجی رہی
مگر جو اصل بات تھی، کہا کچھ نہیں لکھا
محبتوں کے خواب سجائے جو دل میں تھے
انہی کے بارے میں بھی جُدا کچھ نہیں لکھا
محفل میں ہم نے چاہا کہ وہ بات کر سکے
لیکن جو بات پوچھی، کہا کچھ نہیں لکھا
سوچا تھا کوئی راز بھی افشا کرے گا وہ
پر جب ملا قریب تو کہا کچھ نہیں لکھا
خط کے کنارے لفظ بھکڑےپڑے رہے
خط ختم جب ہوا تو پتاکچھ نہیں لکھا
ہم نے بھی انتظار کیا اس کی بات کا
پر وہ قریب آیا تو ہوا کچھ نہیں لکھا
بدیؔع نے پوچھا عشق میں سب کچھ روا ہے کیوں؟
ہنستے ہوئے کہا کہ مزا کچھ نہیں لکھا
بدیؔع کہے کہ عشق بھی حیرت کا باب ہے
دل نے جو حال پوچھا، کیا کچھ نہیں لکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






