کوئی خواب ہے نہ خیال ہے
Poet: سُلطان سَکون By: Yasir Malik, Karachiروگ کُچھ آپ بھی ہم دِل کو لگانے لگ جائیں
جو مِلے ہنس کے اُسے دِل مِیں بَسانے لگ جائیں
جب بھی دَو دِل کہیں مِلتے ہوئے دیکھیں تو یہ لوگ
درمیاں. ...ہجر کی دیوار اُٹھانے لگ جائیں
یہ سمجھ لو کہ غمِ ہجر کا موسم ہے قریب
لوگ جب تُم سے بہت پیار جتانے لگ جائیں
کوئی رسماً ہی اگر پُرسشِ احوال کرے
ہم وہ خوش فہم اُسے تفصیل بتانے لگ جائیں
کوئی دو چار قدم بھی جو چلے ساتھ اپنے
ہم تو اِتنی سی رفاقت بھی نِبھانے لگ جائیں
ہم سے اب ترکِ مراسم تو کئیے جاتے ہو
سوچ لو ' پھر کہیں ہم یاد نہ آنے لگ جائیں
اُس نے کل آنے کا وعدہ تو کِیا ہے.....لیکن
یہ الگ بات ' کل آنے مِیں زمانے لگ جائیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






