کسی کی محبت کا اسیر
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMان دنوں کسی کی محبت کا اسیر ہوں میں
وہ میری رانی ہے اس کا وزیر ہوں میں
جو کسی کہ پیار میں جل کے راکھ ہو گیا
ایسا ایک جلا ہوا شریر ہوں میں
مجھے دنیا کی دولت سے بھلا کیا لینا
پیار کی دولت مانگنے والا فقیر ہوں میں
میری خوابوں میں ایک پری جال آ کر کہتی ہے
کہ اس کہ خوابوں کی تعبیر ہوں میں
ابھی صبا آ کر انہیں مسمار کردے گی
سمندر کنارے جو تاج محل کرتا تعمیر ہوں میں
کاش چپکے سے کوئی میرے کان میں کہے
اصغر تو میرا رانجھا تیری ہیر ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad








