کتنا شریف شخص تھا جو دھوکے میں آگیا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکتنا شریف شخص تھا جو دھوکے میں آگیا
ہوئی ذرا سی بات بھروسے میں آگیا
شدت سے چاہا اس کو شقاوت نہیں رہی
عکسِ جمیل اس کا تو کوزے میں آگیا
ایسی چلی ہے چال رعونت سے دوستو
پاگل جو شخص تھا وہ شکنجے میں آگیا
مجھ کو جو دیکھتا تھا بڑے التفات سے
اس کے قریب آیا تو سکتے میں آگیا
مل سکتا نہ تھا سامنے وہ سب کے اس لیے
وہ شخص ملنے ہجر کے حجرے میں آ گیا
خوشحال زندگی کے نہ ادوار وہ رہے
حالات میرے دیکھ کے صدمے میں آ گیا
راتیں فراقِ ہجر میں ایسے ہی کٹ گئیں
اتنا بڑھا ہے درد کہ سینے میں آ گیا
کرتا تھا روز بات ہو جاتی تھی فون پر
تعریف جب زیادہ کی نخرے میں آگیا
آزاد ہو گیا تھا شکاری کی قید سے
پنچھی وہ خود بخود اسی پنجرے میں آگیا
شہزاد ہجر کی راتیں صدا دینے لگ گئیں
ممکن نہیں تھا ایسا کہ جھونکےمیں آ گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






