کبھی جو ذکر ھو تیرا، مرے مسکان آ جائے۔
Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddahکبھی جو ذکر ھو تیرا، مرے مسکان آ جائے
مچلنے ھم لگیں دل میں کوئی طوفان آ جائے
بھنور میں عشق کی کشتی، پھنسی تم ھی نکالو جی
در ے دل کھول کے دیکھو، کوئی مہمان آ جائے
تری تصویر دل میں ھے، مگر تم دور ھو مجھ سے
اگر انجان رھنا ھے، تو پھر انجان آ جائے
ترا دیدار خوابوں میں، کیا کرتے ھیں کیا کہنے
بڑا ھی خوبصورت ھے، مرا خوبان آ جائے
کبھی مہتاب کی مانند، کبھی کھلنا گلابوں سا
چمن دل کا سجا دیجے، مرا ذیشان آ جائے
کبھی حوروں کی خواہش میں، نہیں سجدے کیے اتنے
مگر خواہش فقط اتنی، وھی انسان آ جائے
خدارا چھوڑ دو ضد کو، نہ تڑپاو دل ے بسمل
ملن کا معاملہ کر لو، مرا ارمان آ جائے
حسیں بیٹھے ھیں راھوں میں، اگر پھسلے نہ پھر کہنا
محبت منتظر گر ھو، دل ے نادان آ جائے
جواب آیا نہ تم آئے، مگر اک آس باقی ھے
کہ سیفی منتظر شائد، بلا عنوان آ جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






