ڈھونڈیے ڈھونڈیے دل صد پارا
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.ڈھونڈیے ڈھونڈیے دل صد پارا ڈھونڈیے
گیا ہے یار کدھر ہمارا ڈھونڈیے
ہجوم کہکشاں ھے ، بے شمار لیکن
قسمت کا ہماری ستارا ڈھونڈیے
دریائے غم میں ، ڈبونا ہے کشتی
مت کوئی ساحل ، کائی کنارا ڈھونڈیے
فدا ہونے کا ، جب ارادہ ہو کوئی
ابرو کا ان کے اشارا ڈھونڈیے
بہر فاتحہ جو اٹھا دے ہاتھ
دوست کوئی ایسا خدا را ڈھونڈیے
دلوں کو جو سکون دائم بخشے
گلشن دہر میں وہ نظارا ڈھونڈیے
تقاضہ ہے طاہر ، غیرت کا یہی
مر جایئے ، نہ کوئی سہارا ڈھونڈیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






