ڈر لگتا ہے
Poet: Mohammad Ifzan Arshad By: Sohail Abbas, islamabadحسن سے عشق سے چاہت سے پیار سے ڈر لگتا ہے
مجھے تیرے ہونٹوں سے خمار سے ڈر لگتا ہے
دل پھینک ہوں، مجنوں ہوں، دیوانہ ہوں میں
صحرا کی دھوپ سے سنگ سے اغیار سے ڈر لگتا ہے
ڈھلتے آفتاب کو دیکھ کر نم ہوتی ہیں آنکھیں میری
حسیں تو ہے کیوں مجھے زوال سے ڈر لگتا ہے
باغوں میں تنہا نہ کیا کر سیر اے صبا
مجھے تو نیت بہار سے ڈر لگتا ہے
رنگوں سے رنگیں ہے تیرے چہرے کی صباحت
قوس و قزاح کو بھی تیرے نکھار سے ڈر لگتا ہے
رات جب سپنوں میں آتی ہے تو
طلوع سے بیداری سے ٹوٹنے کے خواب سے ڈر لگتا ہے
یہ خوف و ڈر تو مٹادوں میں لیکن
افزان کو عشق سے عشق کے اظہار سے ڈر لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






