چَشمِ مُحبّ
Poet: پلک محروم By: palak mahroom, Gopalganj,Indiaبڑی آرزوسے نہارا تھا میں نے
بڑی حسرتوں سے پکارا تھا میں نے
ملے نہ مجھے میری امید کےشے
جسے خوب دل سے سنوارا تھا میں نے
لٹ تو گئی وہ امیدوں کی نگری
چھن توگیا وہ جہان زندگی سے
ہو توگیا تنہا تنہا سا ہر پل
ملی ہر خوشی' کہاں زندگی سے
وہ یادوں کی گلشن میں دیدار کر نا
خود سے بھی زیادہ تجھے پیار کرنا
کبھی جھوم کر تیرے باہوں تلے میں
اپنی محبّت کا اظہار کر نا
یادوں میں تیری' کھویا کھویا سا ہر پل
خیالوں میں تجھ کو بلا تا رہا تھا
چرا کے تیری نازنی سی ادا سے
دل کے جہاں کو سجاتا رہا تھا
یوں خیالوں میں آتے ھو آتے ہی رہنا
خیالوں میں گلشن کھلاتے ہی رہنا
کر نا نہ کبھی یادوں میں آنکھیں نم
میرے ہم سفر' مسکراتے ہی رہنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







