چاہ غب غب جو ترے گال میں آجاتے ہیں
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonلوگ جو عشق کے جنجال میں آ جاتے ہیں
ساز غم سنتے ہی سُر تال میں آ جاتے ہیں
چشم ودل کیف کی معراج کو چھو لیتے ہیں
چاہ غب غب جو ترے گال میں آجاتے ہیں
روٹھنے والے کو واپس نہیں آتے دیکھا
دن مہنیوں کا ہے کیا سال میں آجاتے ہیں
اس قیامت کو تو چلنے کی ضرورت بھی نہیں
دیکھنے والے جو خود چال میں آ جاتے ہوں
ضرب تقسیم سے ہم جمع نہیں ہو پائے
ایسا کرتے ہیں کہ پڑتال میں آجاتے ہیں
اچھے لوگوں سے کئے عہد نے روکا ورنہ
ہم برے حال تو ہر حال میں آجاتے ہیں
کاش خوشبو ئے مجسم ہو مقدر میرا
جھونکے خوشبو کے تو رومال میں آجاتے ہیں
شکل تعبیر میں گو ڈھلتے ہیں شاذو نادر
خوا ب ہیں چندجو خود فال میں آجاتے ہیں
نہ ہی آورد سبب اور نہ کوئی آمد
شعر بے ساختہ اقوال میں آجاتے ہیں
کام کے کام اکارت نہیں جاتے مفتی
“آپ کے نامہ ء اعمال میں آجاتے ہیں”
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






