چاندنی راتوں میں دل کی باتوں میں کچھ خواب سجاتے ہیں
Poet: Arsalan Saleem By: Arsalan Saleem, Kunriچاندنی راتوں میں دل کی باتوں میں کچھ خواب سجاتے ہیں
بند آنکھوں سے دور افق تک سفر نئے بناتے ہیں۔
دل کے صحرا میں یادوں کی بارش میں گلزار بناتے ہیں
تیری یادوں کے، میٹھے پانیوں میں، ہم خود کو بہاتے ہیں۔
رات کے سناٹے میں ہم تمھاری باتوں کو یاد کرتے ہیں
تمہاری خوشبو میں اپنے خوابوں کو، پھر سے سجاتے ہیں۔
ہر ایک لمحہ تیری یادوں کا اک جشن بن جاتا ہے
تمہاری محبت میں دل کے زخموں کو پھول بناتے ہیں۔
تمہاری یادوں کی چادر تلے خوابوں کا آشیانہ ہے،
تمہارے بغیر بھی تمہیں ہر پل دل میں بساتے ہیں۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






