چاند رات
Poet: وقاص خالد By: وقاص خالد, Rawalpindiچاند رات کو تجھے خود یہ چوڑیاں پہناہوں میں
جی چاہتا ہے کہ تجھے خود سنواروں سجھاہوں میں
مہندی کی خوشبو کے ساتھ تیری سانسوں میں اُتروں
ہو ایسا تیری ہتھیلیوں میں خود کو بکھراہوں میں
جیسے ہوا آتی ہے جیسے چاندنی آتی ہے گھر تیرے
پتہ تجھے نہ چلے اِس انداز سے آہوں میں
خوشی کی طرح تیری ذات میں راہوں ہر لمحے
تیرے چہرے پہ کِرن سی بن کر مُسکراہوں میں
تیرے دل میں سما جاہوں کہ ایسا ہو جائے
کبھی دھڑکن بن کے تیرے دل کو دھڑکاہوں میں
جو کھنکتی ہیں چمکتی ہیں تیری نازک کلائیوں میں شمس
ہو ایسا کہ وہی چوڑیاں بن جاہوں میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






