چار دن موجیں جو لوٹی تھیں محبت میں میاں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiچار دن موجیں جو لوٹی تھیں محبت میں میاں
اس لیۓ تو زندگی بھر کی ملی ہیں دوریاں
زندگی بھر سوچنے کے بعد بھی یہ راز ہے
لوگ آ جاتے ہیں کیسے دو دلوں کے درمیاں
ہجر کا مارا سہی لیکن میں ظالم تو نہیں
جانے کیونکر دور مجھ سے بھاگتی ہیں تتلیاں
کیوں گہر آۓ نہیں ہاتھوں میں میرے آج تک
ایک مدت سے تو میں بھی چن رہا ہوں سیپیاں
رات دن خودکش دھماکے کر رہے نوعمر ہیں
کون معصوموں کے دل میں بھر رہا ہے بجلیاں
حکمراں کے کان پر تو رینگتی جوں تک نہیں
خوں میں نہلاۓ ہوۓ بچوں کی سن کر ہچکیاں
صرف اپنی جیب بھرنے کی سبھی کو فکر ہے
کون لاۓ گا بھلا اب ملک میں تبدیلیاں
آئیں گی اس دن سے گھر گھر میں خدا کی رحمتیں
لوگ جس دن مانگنے لگ گۓ خدا سے بیٹیاں
ختم لوگوں کے نہ مجھ سے آج تک شکوے ہوۓ
تھک گیا ہوں خود سے باقرؔ دور کرتے خامیاں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






