پیار اور پیار کا احساس جگائے اپنے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیارنگ اور روپ کے تقدیس بڑھائے اپنے
پیار اور پیار کا احساس جگائے اپنے
اور جزبات کے برسوں سے بُجھے سرد دیے
کہکشاؤں کی طرح ان کو بھی جلائے اپنے
دل پہ پَژمُردَگی طاری ہے جو یہ برسوں سے
آؤ اور مُردہ سے اس دل کو اٹھائے اپنے
زندگی بن گئی ٹھہرے ہوئے جوہڑ کی طرح
تازہ جھرنے کی طرح اس کو چلائے اپنے
دل کی مٹی ہے کڑی دھوپ تلے جھلسی ہوئی
تم بہاروں کی طرح پھول گھلائے اپنے
جب سے آئی ہے سمجھ دیکھی نہیں کوئی بہار
آؤ پت جھڑ کے نشانوں کو مٹائے اپنے
حسن اور حسن کی شہرت میں ہیں بس چار ہی چاند
اس کی شہرت میں نئے چاند لگائے اپنے
سنتے ہیں بولے جو تو پھول جھڑا کرتے ہیں
آؤ اور گھر میں مرے پھول گھلائے اپنے
عمر گزری کہ فقط جیتی ہوں میں اپنے لئے
آو اور خود کو مری جان بنائے اپنے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






