پی کر تمام رات بھی ہوش میں رہا
Poet: Haji Abul Barkat,poet By: Haji Abul Barkat,Poet/Columnist, Karachiجب تک پس غبار راہ سے آتی رہی جھلک
ہم شوق دید یار میں ایسے تھے منہمک
چرچا تمام رات ترا کس طرح ہوا
وہ ذکر تھا کہ خواب تھا بالیں گئی مہک
پی کر تمام رات بھی جو ہوش میں رہا
اک درد جب ملا تو جنوں خود گیا بہک
ائے دوست ہم نے ترے آنے کی آس میں
آنکھیں کھلی رکھی ہیں دم واپسی تلک
ہے اندمال زخم کی حاجت تمام عمر
پچھلی جراحتوں سے ملی لذت کسک
جب بھی چراغ سے چراغ جلا روشنی ملی
سورج سے چاند تاروں کو کیسی ملی چمک
باد نسیم لے کے جب آئی بہار نو
پژ مردگئی شوق کے دل سے مٹی کسک
سب کچھ ہے آپ کا تو بلا جہد دیجئے
کسب معاش جبر مشیت کی ہے جھلک
ہر کسی کو دوست کا رتبہ نہ دے سکا برکات
یہ اور بات ہے کہ کسی کی نہ کی ہتک
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






