پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت
Poet: منظر لکھنوی By: Anila, Abbottabadپھل جائے محبت تو محبت ہے محبت
اور راس نہ آئے تو مصیبت ہے محبت
سرمایۂ دیوانۂ الفت ہے محبت
اے الٹے ہوئے دل تری قیمت ہے محبت
ہے ہم ہی تلک خیر غنیمت ہے محبت
ہو جائے انہیں بھی تو قیامت ہے محبت
رو رو کے وہ پوچھیں گے مری آنکھ سے آنسو
آئیں گے وہ دن بھی جو سلامت ہے محبت
بدنام کیا لاکھ تجھے خود غرضوں نے
پھر بھی تری دنیا کو ضرورت ہے محبت
دنیا کہے کچھ ہے مگر ایمان کی یہ بات
ہونے کی طرح ہو تو عبادت ہے محبت
ہے جن سے ان آنکھوں کی قسم کھاتا ہوں منظرؔ
میرے لیے پروانۂ جنت ہے محبت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






