پھر یوں ہوا کہ زندگی لہروں میں بہہ گئی
Poet: RANA FAISAL MEHMOOD By: rana faisal mehmood, Nankanasahibپھر یوں ہوا کہ زندگی لہروں میں بہہ گئی
وہ جاتے جاتے بات ہی کچھ ایسی کہ گئی
وہ جس کو میں وفا کا تھا پیکر سمجھ رہا
سوچا نہ تھا کہ نکلے گی وہ ایسی بے وفا
کہنے لگی کہ ساتھ تیرا چھورتی ہوں میں
رشتہ جو تم نے جورا تھا وہ توڑتی ہوں میں
پوچھا جو اس سے میں نے کہ کیا ہے میری خطا
ایسابھی کیا ہے جرم کہ اتنی بری سزا۔
میرے کسی سوال کا وہ بن دئیے جواب
کہنے لگی کہ چھور دو پانے کے مجھکو خواب
پھریوں ہوا کہ راستے اپنے ہوئے جدا
اس نے میری وفاؤں کا ہے یہ صلہ دیا
باتوں سے مجھکو فیصل وہ پریشان کر گئی
اک پل میں میری زندگی ویران کر گئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






