پانی میں کہیں عکس تمھارا تو نہیں ہے
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آبادہے چاند فلک پر ہی ، اتارا تو نہیں ہے
پانی میں کہیں عکس تمھارا تو نہیں ہے
یہ بات بھی تسلیم کہ ہاں مجھ میں انا ہے
پر تجھ سے بچھڑنا بھی گوارا تو نہیں ہے
ٹوٹی ہوئی کشتی کو تہِ آب ہے جانا
یہ بیچ سمندر ہے، کنارہ تو نہیں ہے
کیوں ایسے ہیں بدلے ہوئے تیور یہ تمہارے
یہ ترکِ تعلّق کا اشارہ تو نہیں ہے
لکھتا ہوں میں جو لفظ بھی اٹھتا ہے دھواں سا
شعلوں کا مرے دل میں گزارا تو نہیں ہے
تم روٹھ گئے مجھ سے تو میں سوچ رہا ہوں
گردش میں کہیں بخت کا تارا تو نہیں ہے
جھلسایا ہے کلیوں کی قباؤں کو یہ کس نے
یہ روپ میں شبنم کے شرارہ تو نہیں ہے
شعروں میں پرو دیتا ہوں میں دل کے سبھی درد
اب اسکے سوا کوئی بھی چارہ تو نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






