وہی کائنات
Poet: By: Hukhan, karachiپھر سے وفا مانگی ہے
جینے کی دعا مانگی ہے
ترس گیا اس کی ہنسی کو
پھر سے وہ صدا ہم نے مانگی ہے
یاد ہے وہ مسکراہٹ
آنکھوں نے وہی مسکان مانگی ہے
دنیا تھی وہ ہماری
دل نے وہی کائنات مانگی ہے
ہر لمحہ یاد گار تھا
یاد اس کی مانگی ہے
ہر سپنا لگتا تھا سچا
وہی خوشبو کی برات مانگی ہے
ساتھ ہی تو مانگا تھا
کب چاند سے چاندنی مانگی ہے
ہر سو ہے اندھیرا
بس یادوں کی شمع ہی تو مانگی ہے
کب چاہی تھی بادشاہی
چاہت ہی تو اس کی مانگی ہے
خوش رہے وہ خان
یہی دعا اب مانگی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






