وہ شمع کیا کہ جس میں کوئ دوشنی نہیں
Poet: سید اصغر حسین By: Syed Asghar Hussain, Patnaآتش زنی کو اسکا مخالف کوئی نہیں
وہ شمع کیا کہ جس میں کوئی روشنی نہیں
سودائے عشق غیر کہاں میکدے میں ہیں
ساقی پلائے جام رہے تشنگی نہیں
بیخود ہیں ہم تو دیکهه کے ساقی کو جام کو
شیشے کا رنگ آنکهه میں ہے میکشی نہیں
بجلی گری تهی رات کو کل میرے خواب پر
تعبیر وصل یار میں ہے تیرگی نہیں
ممکن نہیں ہے ضبط فغاں چاہے جو بهی ہو
آنکهوں میں اشک بهی ہیں فقط بیبسی نہیں
عالم بنا ہے آئینہ خانے کی سر زمیں
اپنے سوا دیکهائ یہاں ہے کجی نہیں
نالہ ہے کسکا کسکی ہے فریاد دیکهیے
دل میں جگہ بهی داغ کی ہم نے رکهی نہیں
مصروف ہیں فرشتے، میرے حساب میں
آفت بوال جان رہی زندگی نہیں
منکر بنے ہیں درد کے الفاظ و لب ، نظر
اصغر نے مسکرا کے کہا ہے ! اجی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






