وفا ملتی نہیں جب تو جفا پر زور آتا ہے
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ, 1e Exloermondوفا ملتی نہیں جب تو جفا پر زور آتا ہے
یہ فطرت کا تقاضا ہے جو پھر مونہہ زور آتا ہے
امیروں کا الگ قانون ہے اس دیس میں لوگو
یہاں قانون کی زد میں فقط کمزور آتا ہے
اُدھر تیری محبّت ہے ادھر آٹا نہیں گھر میں
تمہیں ہی چھوڑ دوں دل میں یہی فی الفور آتا ہے
ارادہ ہے کہ اب کے شہریت جنگل کی مِل جائے
ادھر بھی جو نیا آتا ہے آدم خور آتا ہے
نہ چاول ہیں نہ آٹا ہے نہ سبزی ہے نہ دالیں ہیں
نہ جانے کیا چرانے کو مرے گھر چور آتا ہے
کوئی بیمار و درماندہ کوئی حسرت زدہ مفلس
کسی کمرے سے مرنے مارنے کا شور آتا ہے
تغیّر ہے سنا تھا ہاں مگر ہم نے تو دیکھا ہے
غریبی تھی غریبی ہے یہی اک دور آتا ہے
چلو آؤ بھُلا دیں ایک دوجے کو مرے ہمدم
اکیلا مَیں ہوں تنہا تُم یہ حل فِل فور آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






