نہیں نہیں
Poet: Majassaf imran By: Majassaf imran, Gujratمیری محبت میں اثر نہیں یا واقعی سنگ دل ہو تم
ولیِ خدا نہیں تو ، مگر جتنا ہوں منافق بھی نہیں
میرا سکون چھین کر ناراختی میں تم بھی ہو
میں جو ہوں شاید وہ نہیں ہوں مگر کافر بھی نہیں
ٹوٹے گی چوڑیاں تیرے ہاتھ سے یہ تو ہونا ہی ہے
بَازگَشت امید کیا میں شرم سار نہیں نہیں میں تو نہیں
کِس غم کی مراقبت کروں کسے اسی کے حال پہ چھوڑوں
سبھی میرے ہیں، سنگ دل نہیں میں تو نہیں
ڈر سا لگتا ہے ان لفظوں سے جو لکھے تھے تیرے ہجر میں
پڑھو گے برا مناٶ گے, چلو مَنا لو برا پرواہ نہیں مجھے بھی نہیں
ہوئے ہو جو مجھ سے طرقِ تعلق اس میں ھرج کیسا
تم ہو لجبازان تو کیا ارے فرشتہ میں بھی نہیں
میرے گھر کی دیواریں پہلے سی نہیں رہی اب
ہاں ہاں مگر یہ بستی پرانی ہے پہلے سا کچھ بھی تو نہیں
گوش کن کبھی دل نے چاہا آسکتے ہو بے پَردہ دَر مقابل مَن
تو میرا میں تیرا بدن دیکھ چکا ہوں، اب پردہ نہیں نہیں
جَلا لو مجھ کو رولا لو مجھ کو مگر به یاد داشته باشید
خوش ہو نفیس تو کیا ملال مجھ کو زندہ قبر کا، نہیں مجھے تو نہیں ۔
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






