نام قاتل کا سرمقتل بتایا نہیں جاتا
Poet: محمد عثمان علی By: محمد عثمان علی, Karachiنام قاتل کا سرمقتل بتایا نہیں جاتا
ہاں ناوءک پشت پہ چلایا نہیں جاتا
اس قدر تنگ ہے یہ کوءچہ عشق
مڑ نہیں پاتے ،واپس آیا نہیں جاتا
پتھر پڑے سر پر تبھی معلوم ہوا
پتھروں کو خدا بنایا نہیں جاتا
ہر رات شبِ وصل ،اچھا ہے مگر
کیوں ڈر ہجر کا سایہ نہیں جاتا
رات شاید تمھی آءے تھے کہ کوئی اور
کھول کے یوں تو دروازہ نہیں جاتا
داستان اب یوں ختم کرتے ہیں آج فرہاد
کدال ہاتھوں میں نہیں ، قلم اٹھایا نہیں جاتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






