ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا۔۔۔
Poet: Rabica Akram By: Rabica Akram, Riyadh,K.S.Aناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا
اس شخص کو فقط اپنے خوابوں میں
میں اکثروبیشتر ملا کرتا تھا
کیا قربت تھی اس کی دعاؤں میں
میری آنکھ سے ندامت کا آنسو گرا کرتا تھا
کھویا رہتا تھا ہمیشہ کن خیالوں میں وہ
میں اکثر یہ غور کیا کرتا تھا
گھنٹوں گزارا کرتا تھا وہ خاموشیوں میں
جانے تنہائی میں کسے ڈھونڈا کرتا تھا
نماز میں کھڑے، سجدوں میں اسے گرتے دیکھا صرف
کیا وہ ہم میں سے ہے میں یہ گماں کیا کرتا تھا
اشک بہاتے ہوئے، کبھی لرزتے ہوے دیکھا اس کو
اور کبھی میں اسے بڑا مطمئین دیکھا کرتا تھا
وقت بدلتا گیا موسموں کی مانند
مگر اسے میں ہمیشہ ٹھرا ہوا ہی دیکھا کرتا تھا
اک دن آیا چل دیا اس دنیا سے وہ
شاید پالیا تھا اس نے جسے وہ تلاش کیا کرتا تھا
ناجانے کیا دعا مانگا کرتا تھا
وہ جو ہمیشہ فلک کی جانب دیکھا کرتا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







