میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمررواں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکاش پڑجائے خرابوں میں ضرورت نہ رہی
موجِ تقدیس کی صورت ہے، یہ صورت نہ رہی
"جب وہ آئے تو چراغوں کی ضرورت نہ رہی"!
میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمررواں
دولتِ حسن کی خیرات مبارک ہوتجھے
تیرے حصے میں نہیں آئی کدورت نہ رہی
آتشِ ہجر میں خود کو ہی جلایا اس نے
بامِ تقدیر کو سزا کیوں ہے پہ چاہت نہ رہی
یہ مرا ذوقِ مسافت ہے مرا عزمِ جنوں
بند آنکھوں کے سبھی خواب ہیں حسرت نہ رہی
اپنی ہی سیج پہ آشاؤں کا لاشہ کیسا
غم کو اب پاس بلاتے ہوئے دہشت نہ رہی
مجھ کو لاتی ہے یہاں تیری عقیدت وشمہ
ورنہ اپنے ہی کسی کام سے شہرت نہ رہی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






