میں نقطہ نظر سمجھایا گیا ہوں
Poet: جہانزیب کُنجاہی By: jahanzeb kunjahi, Karachiقطرہ قطرہ لایا گیا ہوں
صحراؤں میں برسایا گیا ہوں
کن سے لوح پر لکھوایا گیا ہوں
کن سے ہی مٹایا گیا ہوں
عشقِ مجازی میں تعمیر ہوا
عشقِ حقیقی میں ڈھایا گیا ہوں
تعبیرِ خوابِ پدر کی خاطر
سرِ خنجرِ خلیل آزمایا گیا ہوں
شہر شہر نگر نگر گلی گلی
قریہ قریہ رولایا گیا ہوں
تقاضائے ادب جرأتِ کلام نا کرنا
بڑی خامشی سے ستایا گیا ہوں
بصورتِ قیس لبادائے عشق میں
لیلی کی خاطر تماشایا گیا ہوں
سرِ عرش نور سے نہلایا گیا ہوں
سرِ فرش تہہِ خاک سلایا گیا ہوں
لغزش فقط خِطَّائے ربانی تھا
فردوس سے نکلا نہیں نکلوایا گیا ہوں
آتشِ نمرود میں گرایا گیا ہوں
کبھی صلیبوں پر لٹکایا گیا ہوں
مجسمائے طینی میں تخلیقِ نور
محدود مدت تک لایا گیا ہوں
آرائشِ کائنات میں مثلِ شمع
روشنی کے لیے جلایا گیا ہوں
ملائک وجن و خلق تمام کو
میں نقطہ نظر سمجھایا گیا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






