میں بس تمھارا شاعر ہوں
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiوہی ہیں لفظ معتبر
تم پہ جو لکھے گئے
ہیں شعر میرے وہ امر
تم پہ جو کہے گئے
مری تمام شاعری
فقط تمھارے نام ہے
یہ لفظ ہیں مرے کہاں
تمھارے ہی تو نین نقش ہیں
ہیں جلوے سب تمھارے یہ
سبھی تمھارے کے عکس ہیں
وہ دل پذیر، دل نشیں
ہے جس سے یہ سخن حسیں
وہ چشمِ بے مثال جب
اُٹھی تو شعر ہوگیا
سیاہ شب سے بال جب
کُھلے تو شعر ہوگیا
وہ ہونٹ مسکرائے تو
غزل کا سلسلہ چلا
گلاب گال جب ہوئے
سخن کا قافلہ چلا
ہوئی تم اُداس جب
تو میرے لفظ رودیے
ہنسی، جو تمھارے،لب پھول
شعروں میں پِرو دیے
ہے تمھاری شوخیوں سے
میری نظم میں شگفتگی
تمہیں سے میرے شعر
میری شاعری کی زندگی
تم اپنے تاروں سے دمکتے نینوں سے،جو دیکھ لو
تو میری شاعری کا ہو مزاج آسمان پر
نظر جو تم نے پھیر لی
مرے کلام سے کبھی
تو بے وقعت مرا سخن
مرا کلام بے ثمر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






