میں اور میری تنہائی
Poet: Muzammal Mukhtar Azam By: Muzammal Mukhtar Azam, Lahoreجب چپ سادھی ہو دنیا نے
اور
شجربھی تھک کر سو جائیں
جب کاگا بولے آنگن میں
اور برسے آگ ان آنکھوں سے
تب ہم باتیں کرتے ہیں
جب یاد ہو میری سجنی کی
اور گم سم شور ہو آہوں کا
جب سوچیں وصل میں ڈوبی ہوں
اور موسم ہو برساتوں کا
تب میں اور میری تنہائی
اکثر یہ باتیں کرتے ہیں
اب ہجر کی لمبی راتیں ہیں
اور وصل کی کوئ آس نہیں
اب موت کا سورج نیزے پر
اور زیست کی کوئ پیاس نہیں
پر نا میدی تو کفر بھی ہے
نا اہل وفا کا شیوہ ہے
تو کیوں پھر ہم نے تنہائ کا
ذکر دوبارہ چھیڑا ہے
تم میرے تھے تم میرے ہو
پھر وصل کی آس میں کیوں جلنا
جوں ملتے ہو تم خوابوں میں
بس مجھ سے ملتے یوں رہنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







