میں آج اپنی داستان لکھنے بیٹھا ہوں
Poet: ایچ ایم کاشف علی By: H M Kashif Ali, Lahoreمیں آج اپنی داستان لکھنے بیٹھا ہوں
زندگی کا ہر امتحان لکھنے بیٹھا ہوں
بہت آوارہ پن تھا زندگی میں مگر آج
میں اپنا ہر ایک قیام لکھنے بیٹھا ہوں
اس دور کی دنیا میں بہت ہجوم ہے لیکن
میں پھر بھی ہر جگہ سنسان لکھنے بیٹھا ہوں
ارادہ تو کر لیا ک تیرے بھنور سے بچ نکلوں گا
ابھی تک اسی تگو دو میں طوفان لکھنے بیٹھا ہوں
سبھی اتار چڑھاؤ میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں
اس لیے ہر رستے کو میزان لکھنے بیٹھا ہوں
جو گزرا ہے جو گزرے گا ہر زمآنے میں
میں حافظ ایک نیا بیان لکھنے بیٹھا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






