میرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar , Jalal Pur Jattan, Gujratمیرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے
گیلی مٹی پہ جیسے ایک پودا لپٹا رہتا ہے
اُ س مٹی کا کچھ حصہ پودے میں زندہ رہتا ہے
میں چاہوں تو بھی آجائے اور مجھ میں کہیں سما جائے
ہوں سانسیں مہکی مہکی سی، روحیں ایک دوجے میں ٹھہری سی
جسم ہمارے یکساں ہو ں
تو مجھ میں کہیں پر کھو جائےِ میں تجھ میں کہیں پر کھو جاؤ ں
محبت میں ہم یوں بہک جائیں
میں تجھ میں کہیں پر رہ جاؤ ں ، تو مجھ میں زندہ رہ جا ئے
میں چاہوں تجھ کو پانا اس طرح
میں ٹھہرں کافر دل کی بستی کا ، تو میرا خدا بن جائے
میں چاہوں تجھ کو اتنا کہ اپنے ساتھ لیے پھروں
تیرے وجود کی مہکتی خوشبو
میرے گھر کا کچا یہ ٓانگن یو ں مہک جائے
میرے دل کے سونے آنگن کی یہ خواہش پوری ہو جائے
میں دے دوں تجھ کو تخت وتاج الگ
جیسے کافر کا ہو خدا الگ
میرے دل کے کچے آنگن میں پختہ سی خواہش جاگی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






