میری گلی کا نکڑ
Poet: Ahsan Changezi By: Ahsan Changezi, karachiنجانے کتنی باتیں میں سوچتا جہاں تھا
نجانے کتنے چہرے میں کھوجتا جہاں تھا
کتنے حسین چہرے آنکھوں میں ٹہرتے تھے
کتنے حسین لمحے پل بھر بدلتے تھے
کچھ چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لوگ جھگڑتے تھے
خود ہی وہ بگڑتے تھے خود ہی وہ سنبھلتے تھے
معصوم سے وہ بچے معصوم مسکراہٹ
پھولوں کی طرح کھلتے خوشیوں سے اچھلتے تھے
ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دو پیار کرنے والے
ہر روز ہی ملتے تھے ہر روز بچھڑتے تھے
تھامے کتاب ہاتھوں میں چہرہ بھی کتابی
گھر سے نکلتی جب وہ دل سب کے دھڑکتے تھے
احسن بہت ستائے اب یاد بہت آئے
میری گلی کا نکڑ میری گلی کا نکڑ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







