میری خاموشی کو تم تو نہ سمجھ پاؤ گے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر , Mumbaiمیری خاموشی کو تم تو نہ سمجھ پاؤ گے
میرے یہ ضبط کو سمجھو تو تڑپ جاؤ گے
آزمائش سے کبھی نہ کوئی بچ پائے گا
ضبط کے ہی تو مطابق صلہ تم پاؤ گے
جو ہو جاہل تو زباں اس کی چلے گی ہر دم
جو ہو عاقل تو اسے پُر سُکُوں ہی پاؤ گے
کوئی ٹیلے پہ اکڑ کر نہ تو چڑھ سکتا ہے
یوں تو جھک کر کبھی پربت پہ پہنچ جاؤ گے
کوئی انداز بیاں ایسا کہ دل کو بھائے
جو نہ اخلاص ہو تو منہ کی ہی بس کھاؤ گے
درد ہونے پہ اثر کوئی کبھی روتا ہے
درد کے بڑھنے پہ خاموش ہی ہو جاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






