میری تنہائیوں میں جب تیری یادیں برستی ہیں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid sheikh, Lahore Pakistanمری تنہائیوں میں جب تری یادیں برستی ہیں
کبھی بادل برستے ہیں کبھی آنکھیں برستی ہیں
تجھے کھو کر یہ جانا ہم نے اپنی زندگی کھو دی
یہ دل بے تاب ہے ،ہونٹوں پہ اب آہیں برستی ہیں
نجانے ایسا کیوں لگتا ہے دستک دے رہے ہو تم
جو ٹھہرے پانیوں میں چاند کی کرنیں برستی ہیں
ہو جب بھی رات کے پچھلے پہر ٹھنڈی ہوا کا زور
تصور میں تری دہکی ہوئی سانسیں برستی ہیں
سدا آباد رہتا ہے یہ تنہا رہ نہیں سکتا
خموشی ہو تو پھر دل پر تری باتیں برستی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






