موسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارے
Poet: شاہجہاں By: شاہجہاں, Dera Ismail Khanموسم گل میں بھی گل نذر خزاں ہیں سارے
مطمئن کوئی نہیں محو فغاں ہیں سارے
ہوشمندی سے قدم آگے بڑھاؤ لوگو
اپنی جانب ہی کھنچے تیر و کماں ہیں سارے
چہچہانے کی صدا آئی تھی کل تک جن سے
جانے کیوں آج وہ خاموش مکاں ہیں سارے
صرف دیوار کی اونچائی نظر آتی ہے
اے مرے شہر مرے لوگ کہاں ہیں سارے
اب خدا خیر کرے قافلہ والوں کی مرے
کھوئے کھوئے ہوئے منزل کے نشاں ہیں سارے
کتنا دھندلا دیا حالات نے تم کو شوقیؔ
جن کو تم ابر سمجھتے ہو دھواں ہیں سارے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






