محبت کی گہری نیند میں اِک خواب دیکھا میں نے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمحبت کی گہری نیند میں اِک خواب دیکھا میں نے
میں تجھ سے جدا ، خود پہ عذاب دیکھا میں نے
فصلِ گُل کا ذکر ہے اِک وسیع گلستان تھا
ہوائیں اُداس پھرتی تھیں ہر پھول پریشان تھا
شدتِ درد میں روتا ہوا اِک گلاب دیکھا میں نے
محبت کی گہری نیند میں اِک خواب دیکھا میں نے
پھر یوں دیکھتا ہوں گلشن ہے آروں کی لپیٹ میں
اِک بے سہارا مر رہا تھا سہاروں کی لپیٹ میں
ٹھوکتا خون ہر شجر بری حالتِ خراب دیکھا میں نے
محبت کی گہری نیند میں اِک خواب دیکھا میں نے
وہ خواب ساری عمر کی نیندوں کے دھاگے توڑ گیا
نہالؔ ہر رات تاروں سنگ جاگتا مجھ کو چھوڑ گیا
اِک شاعر کچھ لکھ رہا حالتِ بے تاب دیکھا میں نے
محبت کی گہری نیند میں اِک خواب دیکھا میں نے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







