محبت
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreمحبت خواب جیسی ھے
جونہی آنکھیں مینچی تو
سپنے بکھرتے ہی چلے گئے
محبت محض فریب دل ھے
جونہی حقیقت عیاں ھوئ تو
ارمان ٹوٹتے ہی چلے گئے
محبت مانند ھے اُس پرندے کے
جونہی ذرا پنکھ کھولے تو
فاصلے اُڑان بھرتے ہی چلے گئے
محبت اک راز ھے لیکن
جونہی افشاں ہوا تو
حقیقی و مجازی کے پردے اُٹھتے ہی چلے گئے
محبت تو امر بیل ہی ھے
ہزاروں رنگ ہیں اس کے
ہزاروں ڈھنگ ہیں آس کے
سفر ھے یہ مکاں سے لا مکاں کا
اس جہاں سے اُس جہاں کا
محبت دلفریب فسانہ ھے
جسے چلتے ہی جانا ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







