مجھے بس تجھ سے پیار ہے
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadمیرے دو پل کے ہمسفر مجھے تجھ سے پیار ہے
میری راہوں کو تیرا اتنظار ہے
میرے قدموں کی آہٹوں میں سنو تو اک آواز ہے
مجھے بس تیرا اتنظار ہے
میری نظروں کی کھوجھوں میں
میری پلکوں کے دریچوں میں
تیرے لیئے محبت کا گھر آباد ہے
میرے دو پل کے ھمسفر مجھے بس تجھ سے پیار ہے
میرے وجود کو تیرے وجود کی تلاش ہے
تو کہاں ہے
تو کیا ہے
تو کیساہے
مجھے بس تیرا انتظار ہے
مجھے تجھ سے پیار ہے
میرے جذبوں کو تیرے لمس کی پیاس ہے
میری سوچوں کی حدوں میں
تو آباد ہے
میرے ھمسفر
میرے جانشیں
مرے جانمن
مجھے تجھ سے پیار ہے
بس تیرا انتظار ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







