مجھ کو کھاۓ جاتا ہے انتظار لوگوں کا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمجھ کو کھاۓ جاتا ہے انتظار لوگوں کا
جانے مجھ سے ہے کیونکر اتنا پیار لوگوں کا
جو ملا مجھے آخر بےوفا وہی نکلا
اب بھلا کروں کیسے اعتبار لوگوں کا
روز خط محبت کے کیوں مجھی کو ملتے ہیں
میں بنوں بھلا کیسے بار بار لوگوں کا
دیکھو میری ہمت تو اپنے چھوٹے سے دل میں
درد لے کے پھرتا ہوں میں ہزار لوگوں کا
اس کی سنگدلی کو بھی داد دینی ہو گی کہ
قتل کر کے وہ خوش ہے چار چار لوگوں کا
میں جو ایک ہوں باقرؔ یار بھی تو اک ہو بس
ایک میں بنوں کیسے بےشمار لوگوں کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






