مجھ کو زنداں میں مارا پتھر کا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ نہ کہیے مرے مقدر کا
مجھ کو زنداں میں مارا پتھر کا
ہو مجسم نہ دے دعا کو اثر
پھر تجھے ہے خدا سے اب ڈر کا
میری اچھائی کی گواہی ہو
کہہ رہا ہے مجھے وہ خود سر کا
دیر تک جو رقیب بیٹھا رہا
اس کو اچھا سنایا ہے گھر کا
آ رزو ہو نہ زندگی کی کوئی
کیوں نہ پھر زہر دے نظر بھر کا
مانا دشمن سے تو شکایت ہے
دوست ہو گر عدو تو خنجر کا
عہد حاضر کا ہی نہیں نغمہ
مجھکو ہر دور کےیہ منظر کا
دل زباں پر سجائے پھرتی ہوں
کھوٹ رکھتی نہیں ستمگر کا
تازگی میں مثال ہے وشمہ
زخم ہے دیکھیے مقدر کا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






