مت پوچھ یہ حال
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمت پوچھ یوں یہ حال مرا دل نہیں لگا
جینا ہوا محال مرا دل نہیں لگا
مت روکنا مجھے نہیں رہنا یہاں کبھی
گھر اپنا خود سنبھال مرا دل نہیں لگا
ہوتی نہیں ہے چیز میسر کوئی یہاں
کرتے ہو تم کمال مرا دل نہیں لگا
ناچو یہاں پہ گاؤ بجاؤ گٹار بھی
پاؤ لڈی دھمال مرا دل نہیں لگا
بیمار ہو گیا ہوں پریشان ہوں بہت
یوں مت کرو سوال مرا دل نہیں لگا
بنگلہ یہ کوٹھی کار نہیں چاہیے مجھے
اپنا رکھو خیال مرا دل نہیں لگا
شہزاد کیسے اب میں گزارہ کرو یہاں
ہونے کو اب ہے سال مرا دل نہیں لگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






