قلب سے محبت کر اور سیکھتا جا بس
Poet: ولید خان ولی By: ولید خان ولی , attockقلب سے محبت کر اور سیکھتا جا بس
چین سے صبر کر اور دیکھتا جا بس
پسپا ہو گئے اکثر برق رفتار اس دیار عشق میں
تو محبت کر ،صبر کر اور دیکھتا جا بس
راہ عشق میں ابھی بڑے کرب تو نے جھیلنے ہیں
تو غم نہ کر،صبر کر اور دیکھتا جا بس
اتر مت اس بحر ظلمات میں ،حجر ہیں سب قلب
وادی مجاز میں صبر کر اور دیکھتا جا بس
سنگ ہیں سارے دل محزون،کچھ محبت میں کچھ نفرت میں
ٹوٹ جاتے ہیں اکثر دل سنگ،رکھ قلب نازک اور دیکھتا جا بس
ڈوب جاتے ہیں اکثر غواص اس آب عمیق میں
مت اتر اس آب غمر میں ،تو صبر کر اور دیکھتا جا بس
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






