قسمت کا اپنے ہاتھ پہ تارا اتار کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاقسمت کا اپنے ہاتھ پہ تارا اتار کر
میں سر خرو ہوں پیار کا صدقہ اتار کر
اس زندگی کی سیج پہ مشکل ہے جی سکوں
کانوں سے تیرے پیار کا جھمکا اتار کر
اب مطمئن ہے میرے بھی آنگن میں مفلسی
کچھ خواہشوں کا جسم سے دھبہ اتار کر
وہ رفتہ رفتہ اپنا ہی رستہ بدل گیا
بھیجا تھا جس نےپیار کا نقشہ اتار کر
میں آپ اپنی ذات میں مسحور ہو گئی
اپنے لبوں پہ عشق کا نغمہ اتار کر
اب زیبِ طاق و بام ہیں ہجرت کے سب چراغ
دیوار و در سے درد کا دھبہ اتار کر
ٹھہرو ذرا میں روح کی چادر سمیٹ لوں
شہرِ جفا میں زندگی وشمہ اتار کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






